جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُتر تا ہےاور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، ہر چیز کو وہ جانتا ہے، وہ رحیم اور غفور ہے۔
منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے ! کہو، قسم ہے میرے عالم الغیب پروردگار کی، وہ تم پر آکر رہے گی۔اُس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھُپی ہوئی ہے نہ زمین میں۔ نہ ذرّے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی، سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے۔
منکرین لوگوں سے کہتے ہیں "ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرہ ذرہ منتشر ہو چکا ہو گا اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کر دیے جاؤ گے؟
نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھُوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنُون لاحق ہے۔“ نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے ہیں۔
کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دَھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گِرا دیں۔ در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔
ہم نے داوٴدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔ (ہم نے حکم دیا کہ)اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو(اور یہی حکم ہم نے)پرندوں کو دیا۔ ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخّر کر دیا ، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک۔ ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جِن اس کے تابع کر دیے جو اپنے ربّ کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے۔ اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے
وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اُونچی عمارتیں، تصویریں ، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں ۔۔۔۔ اے آلِ داوٴدؑ ، عمل کرو شکر کے طریقے پر ، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں
پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جِنّوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھُن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا۔ اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جِنّوں پر یہ بات کھُل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلّت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔
سبا کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی ، دو باغ دائیں اور بائیں ۔ کھاوٴ اپنے ربّ کا دیا ہوا رزق اور شکر بجا لاوٴ اُس کا، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا
مگر وہ منہ موڑ گئے۔ آخر کار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھاوٴ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں
اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان ، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی ، نمایاں بستیاں بسا دی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں۔ چلو پھرو اِن راستوں میں رات دن پورے امن کے ساتھ
مگر انہوں نے کہا”اے ہمارے ربّ، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔ “ انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِتّر کر ڈالا ۔ یقیناً اس میں نشانیاں ہیں ہر اُس شخص کے لیے جو بڑا صابر و شاکر ہو
ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے ۔ تیرا ربّ ہر چیز پر نگران ہے۔
(اے نبیؐ ، اِن مشرکین سے)کہو کہ پکار دیکھو اپنے اُن معبُودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبُود سمجھے بیٹھے ہو ۔ وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں۔ وہ آسمان و زمین کی ملکیّت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ ان میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے
اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجُز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو ۔ حتٰی کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دُور ہوگی تو وہ (سفارِش کرنے والوں سے)پوچھیں گے کہ تمہارے ربّ نے کیا جواب دیا۔ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے۔
(اے نبیؐ)اِن سے پوچھو”کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟“کہو”اللہ ۔ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھُلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ “
یہ کافر کہتے ہیں کہ ”ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے ۔“ کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے ربّ کے حضُور کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت یہ ایک دُوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ”اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے ۔“
وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے”نہیں، بلکہ شب و روز کی مکّاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کُفر کریں اور دُوسروں کی اس کا ہمسر ٹھہرائیں ۔“ آخر کار جب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن مُنکرین کے گلوں میں طَوق ڈال دیں گے۔ کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جا سکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسی ہی جزا وہ پائیں؟
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے
یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دُہری جزا ہے ، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے
اے نبیؐ ، ان سے کہو”میرا ربّ بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کُھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے۔ جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اَور دیتا ہے ، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے۔ “
تو وہ جواب دیں گے”پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہےنہ کہ اِن لوگوں سے ۔ دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جِنّوں کی عبادت کرتے تھے، ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے ہوئے تھے ۔“
(اُس وقت ہم کہیں گے کہ) آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں" اور کہتے ہیں کہ "یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا" اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ "یہ تو صریح جادو ہے"
اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھُٹلا چکے ہیں۔ جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اُس کی عُشرِ عَشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں۔ مگر جب انہوں نے میرے رسُولوں کو جھُٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔
اے نبیؐ ، اِن سے کہوکہ”میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، خدا کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو دو مِل کر اپنا دماغ لڑاوٴ اور سوچو، تمہارے صاحب میں آخر ایسی کونسی بات ہے جو جُنون کی ہو ؟ وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبّہ کرنے والا ہے۔ “
کہو”اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا ربّ میرے اُوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سُنتا ہے اور قریب ہی ہے۔
اُس وقت جس چیز کی یہ تمنّا کر رہے ہوں گے اس سے محرُوم کر دیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش رَو ہم مشرب محروم ہو ں گے۔ یہ بڑے گمراہ کُن شک میں پڑے ہوئے تھے۔