طسٓۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْقُرْءَانِ وَكِتَابٍ مُّبِينٍ ١
ط۔س۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین کی
النمل
Surah 27 · 93 verses · makkah
طسٓۚ تِلْكَ ءَايَـٰتُ ٱلْقُرْءَانِ وَكِتَابٍ مُّبِينٍ ١
ط۔س۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین کی
هُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُؤْمِنِينَ ٢
ہدایت اور بشارت اُن ایمان لانے والوں کے لیے
ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٲةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٲةَ وَهُم بِٱلْأَخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ٣
جو نماز قائم کرتے اور زکوٰة دیتے ہیں، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پُورا یقین رکھتے ہیں
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْأَخِرَةِ زَيَّنَّا لَهُمْ أَعْمَـٰلَهُمْ فَهُمْ يَعْمَهُونَ ٤
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتُوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں
أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ لَهُمْ سُوٓءُ ٱلْعَذَابِ وَهُمْ فِى ٱلْأَخِرَةِ هُمُ ٱلْأَخْسَرُونَ ٥
یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں
وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى ٱلْقُرْءَانَ مِن لَّدُنْ حَكِيمٍ عَلِيمٍ ٦
اور (اے محمدؐ)بلا شبہہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو۔
إِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِأَهْلِهِۦٓ إِنِّىٓ ءَانَسْتُ نَارًا سَـَٔـاتِيكُم مِّنْهَا بِخَبَرٍ أَوْ ءَاتِيكُم بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُونَ ٧
(اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ)جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ”مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چُن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہو سکو۔“
فَلَمَّا جَآءَهَا نُودِىَ أَنۢ بُورِكَ مَن فِى ٱلنَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَـٰنَ ٱللَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٨
وہاں جو پہنچا تو ندا آئی کہ”مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اِس کے ماحول میں ہے۔ پاک ہے اللہ، سب جہان والوں کا پروردگار
يَـٰمُوسَىٰٓ إِنَّهُۥٓ أَنَا ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ ٩
اے موسیٰؑ، یہ میں ہوں اللہ، زبردست اور دانا
وَأَلْقِ عَصَاكَۚ فَلَمَّا رَءَاهَا تَهْتَزُّ كَأَنَّهَا جَآنٌّ وَلَّىٰ مُدْبِرًا وَلَمْ يُعَقِّبْۚ يَـٰمُوسَىٰ لَا تَخَفْ إِنِّى لَا يَخَافُ لَدَىَّ ٱلْمُرْسَلُونَ ١٠
اور پھینک تُو ذرا اپنی لاٹھی۔“ جُونہی کہ موسیٰ ؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔”اے موسیٰؑ ، ڈرو نہیں۔ میرے حضُور رسُول ڈرا نہیں کرتے
إِلَّا مَن ظَلَمَ ثُمَّ بَدَّلَ حُسْنَۢا بَعْدَ سُوٓءٍ فَإِنِّى غَفُورٌ رَّحِيمٌ ١١
اِلّا یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو۔ پھر اگر بُرائی کے بعد اُس نے بھلائی سے (اپنے فعل کو)بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں
وَأَدْخِلْ يَدَكَ فِى جَيْبِكَ تَخْرُجْ بَيْضَآءَ مِنْ غَيْرِ سُوٓءٍۖ فِى تِسْعِ ءَايَـٰتٍ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ وَقَوْمِهِۦٓۚ إِنَّهُمْ كَانُواْ قَوْمًا فَـٰسِقِينَ ١٢
اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو۔ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ (دونشانیاں)نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اُس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے) ، وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔“
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ ءَايَـٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُواْ هَـٰذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ ١٣
مگر جب ہماری کھلی کھلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تو انہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے
وَجَحَدُواْ بِهَا وَٱسْتَيْقَنَتْهَآ أَنفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّاۚ فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُفْسِدِينَ ١٤
انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے۔ اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا
وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ وَسُلَيْمَـٰنَ عِلْمًاۖ وَقَالَا ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ١٥
(دُوسری طرف)ہم نے داوٴدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا اور اُنہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔
وَوَرِثَ سُلَيْمَـٰنُ دَاوُۥدَۖ وَقَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ ٱلطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَىْءٍۖ إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ ٱلْفَضْلُ ٱلْمُبِينُ ١٦
اور داوٴدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا۔ اور اس نے کہا”لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں، بے شک یہ (اللہ کا)نمایاں فضل ہے۔“
وَحُشِرَ لِسُلَيْمَـٰنَ جُنُودُهُۥ مِنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ وَٱلطَّيْرِ فَهُمْ يُوزَعُونَ ١٧
سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے اور وہ پُورے ضبط میں رکھے جاتے تھے
حَتَّىٰٓ إِذَآ أَتَوْاْ عَلَىٰ وَادِ ٱلنَّمْلِ قَالَتْ نَمْلَةٌ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّمْلُ ٱدْخُلُواْ مَسَـٰكِنَكُمْ لَا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمَـٰنُ وَجُنُودُهُۥ وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ١٨
(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کُوچ کر رہا تھا)یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا”اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھُس جاوٴ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کُچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔“
فَتَبَسَّمَ ضَاحِكًا مِّن قَوْلِهَا وَقَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِىٓ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ ٱلَّتِىٓ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ وَعَلَىٰ وَٲلِدَىَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَـٰلِحًا تَرْضَـٰهُ وَأَدْخِلْنِى بِرَحْمَتِكَ فِى عِبَادِكَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ١٩
سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا۔۔۔۔”اے میرے ربّ، مجھے قابو میں رکھ کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔“
وَتَفَقَّدَ ٱلطَّيْرَ فَقَالَ مَا لِىَ لَآ أَرَى ٱلْهُدْهُدَ أَمْ كَانَ مِنَ ٱلْغَآئِبِينَ ٢٠
(ایک اور موقع پر)سلیمانؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا اور کہا”کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟
لَأُعَذِّبَنَّهُۥ عَذَابًا شَدِيدًا أَوْ لَأَاْذْبَحَنَّهُۥٓ أَوْ لَيَأْتِيَنِّى بِسُلْطَـٰنٍ مُّبِينٍ ٢١
میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔
فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيدٍ فَقَالَ أَحَطتُ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهِۦ وَجِئْتُكَ مِن سَبَإِۭ بِنَبَإٍ يَقِينٍ ٢٢
کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آکر کہا”میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے عِلم میں نہیں ہیں۔ میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔
إِنِّى وَجَدتُّ ٱمْرَأَةً تَمْلِكُهُمْ وَأُوتِيَتْ مِن كُلِّ شَىْءٍ وَلَهَا عَرْشٌ عَظِيمٌ ٢٣
میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم کی حکمران ہے اُس کو ہر طرح کا ساز و سامان بخشا گیا ہے اور اس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے
وَجَدتُّهَا وَقَوْمَهَا يَسْجُدُونَ لِلشَّمْسِ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَزَيَّنَ لَهُمُ ٱلشَّيْطَـٰنُ أَعْمَـٰلَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ ٱلسَّبِيلِ فَهُمْ لَا يَهْتَدُونَ ٢٤
میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ کرتی ہے“۔۔۔۔ شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے
أَلَّا يَسْجُدُواْ لِلَّهِ ٱلَّذِى يُخْرِجُ ٱلْخَبْءَ فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلْأَرْضِ وَيَعْلَمُ مَا تُخْفُونَ وَمَا تُعْلِنُونَ ٢٥
کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے اور سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھُپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔
ٱللَّهُ لَآ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ ٱلْعَرْشِ ٱلْعَظِيمِ ۩ ٢٦
اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحق ِ عبادت نہیں، جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔
۞ قَالَ سَنَنظُرُ أَصَدَقْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْكَـٰذِبِينَ ٢٧
سلیمانؑ نے کہا "ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے
ٱذْهَب بِّكِتَـٰبِى هَـٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَٱنظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ ٢٨
میرا یہ خط لےجا او ر اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔“
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُاْ إِنِّىٓ أُلْقِىَ إِلَىَّ كِتَـٰبٌ كَرِيمٌ ٢٩
ملکہ بولی "اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے
إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَـٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ ٣٠
وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے
أَلَّا تَعْلُواْ عَلَىَّ وَأْتُونِى مُسْلِمِينَ ٣١
مضمون یہ ہے کہ”میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاوٴ۔“
قَالَتْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُاْ أَفْتُونِى فِىٓ أَمْرِى مَا كُنتُ قَاطِعَةً أَمْرًا حَتَّىٰ تَشْهَدُونِ ٣٢
(خط سُنا کر)ملکہ نے کہا”اے سردارانِ قوم، میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں۔“
قَالُواْ نَحْنُ أُوْلُواْ قُوَّةٍ وَأُوْلُواْ بَأْسٍ شَدِيدٍ وَٱلْأَمْرُ إِلَيْكِ فَٱنظُرِى مَاذَا تَأْمُرِينَ ٣٣
اُنہوں نے جواب دیا "ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے"
قَالَتْ إِنَّ ٱلْمُلُوكَ إِذَا دَخَلُواْ قَرْيَةً أَفْسَدُوهَا وَجَعَلُوٓاْ أَعِزَّةَ أَهْلِهَآ أَذِلَّةًۖ وَكَذَٲلِكَ يَفْعَلُونَ ٣٤
ملکہ نے کہا کہ”بادشاہ جب کسی ملک میں گھُس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں
وَإِنِّى مُرْسِلَةٌ إِلَيْهِم بِهَدِيَّةٍ فَنَاظِرَةُۢ بِمَ يَرْجِعُ ٱلْمُرْسَلُونَ ٣٥
میں اِن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں"
فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمَـٰنَ قَالَ أَتُمِدُّونَنِ بِمَالٍ فَمَآ ءَاتَـٰنِۦَ ٱللَّهُ خَيْرٌ مِّمَّآ ءَاتَـٰكُم بَلْ أَنتُم بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُونَ ٣٦
جب وہ (ملکہ کا سفیر)سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا”کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔ تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے
ٱرْجِعْ إِلَيْهِمْ فَلَنَأْتِيَنَّهُم بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَهُم بِهَا وَلَنُخْرِجَنَّهُم مِّنْهَآ أَذِلَّةً وَهُمْ صَـٰغِرُونَ ٣٧
(اے سفیر)واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے جن کا مقابلہ وہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔“
قَالَ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلْمَلَؤُاْ أَيُّكُمْ يَأْتِينِى بِعَرْشِهَا قَبْلَ أَن يَأْتُونِى مُسْلِمِينَ ٣٨
سلیمانؑ نے کہا”اے اہلِ دربار، تم میں سےکون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟
قَالَ عِفْرِيتٌ مِّنَ ٱلْجِنِّ أَنَا۟ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن تَقُومَ مِن مَّقَامِكَۖ وَإِنِّى عَلَيْهِ لَقَوِىٌّ أَمِينٌ ٣٩
جِنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اُٹھیں۔ میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں۔“
قَالَ ٱلَّذِى عِندَهُۥ عِلْمٌ مِّنَ ٱلْكِتَـٰبِ أَنَا۟ ءَاتِيكَ بِهِۦ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَۚ فَلَمَّا رَءَاهُ مُسْتَقِرًّا عِندَهُۥ قَالَ هَـٰذَا مِن فَضْلِ رَبِّى لِيَبْلُوَنِىٓ ءَأَشْكُرُ أَمْ أَكْفُرُۖ وَمَن شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِۦۖ وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ رَبِّى غَنِىٌّ كَرِيمٌ ٤٠
جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا”میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔“ جُونہی کہ سلیمان ؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اُٹھا”یہ میرے ربّ کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں۔ اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی نا شکری کرے تو میرا ربّ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے۔“
قَالَ نَكِّرُواْ لَهَا عَرْشَهَا نَنظُرْ أَتَهْتَدِىٓ أَمْ تَكُونُ مِنَ ٱلَّذِينَ لَا يَهْتَدُونَ ٤١
سلیمانؑ نے کہا”انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے۔“
فَلَمَّا جَآءَتْ قِيلَ أَهَـٰكَذَا عَرْشُكِۖ قَالَتْ كَأَنَّهُۥ هُوَۚ وَأُوتِينَا ٱلْعِلْمَ مِن قَبْلِهَا وَكُنَّا مُسْلِمِينَ ٤٢
ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی”یہ تو گویا وہی ہے۔ ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جُھکا دیا تھا۔ (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)۔“
وَصَدَّهَا مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ ٱللَّهِۖ إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَـٰفِرِينَ ٤٣
اُس کو (ایمان لانے سے)جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبُودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پُوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔
قِيلَ لَهَا ٱدْخُلِى ٱلصَّرْحَۖ فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَن سَاقَيْهَاۚ قَالَ إِنَّهُۥ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّن قَوَارِيرَۗ قَالَتْ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى وَأَسْلَمْتُ مَعَ سُلَيْمَـٰنَ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٤٤
اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اُترنے کےلیے اس نےاپنے پائینچے اُٹھا لیے۔ سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔ اس پروہ پکار اُٹھی”اے میرے ربّ (آج تک)میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ ربّ العالمین کی اطاعت قبول کر لی۔“
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَآ إِلَىٰ ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَـٰلِحًا أَنِ ٱعْبُدُواْ ٱللَّهَ فَإِذَا هُمْ فَرِيقَانِ يَخْتَصِمُونَ ٤٥
اور ثمُود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو (یہ پیغام دے کر)بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو مُتَخاصِم فریق بن گئے۔
قَالَ يَـٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِٱلسَّيِّئَةِ قَبْلَ ٱلْحَسَنَةِۖ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ٤٦
صالحؑ نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟ کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شایک کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟“
قَالُواْ ٱطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَۚ قَالَ طَـٰٓئِرُكُمْ عِندَ ٱللَّهِۖ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُونَ ٤٧
انہوں نےکہا”ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بدشگونی کا نشان پایا ہے۔“ صالحؑ نے جواب دیا”تمہارے نیک و بدشگون کا سرِشتہ تو اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔“
وَكَانَ فِى ٱلْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُفْسِدُونَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ ٤٨
اُس شہر میں نو جتھے دار تھے جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے
قَالُواْ تَقَاسَمُواْ بِٱللَّهِ لَنُبَيِّتَنَّهُۥ وَأَهْلَهُۥ ثُمَّ لَنَقُولَنَّ لِوَلِيِّهِۦ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ أَهْلِهِۦ وَإِنَّا لَصَـٰدِقُونَ ٤٩
انہوں نے آپس میں کہا”خدا کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے، ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔“
وَمَكَرُواْ مَكْرًا وَمَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ٥٠
یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی۔
فَٱنظُرْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ مَكْرِهِمْ أَنَّا دَمَّرْنَـٰهُمْ وَقَوْمَهُمْ أَجْمَعِينَ ٥١
اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو
فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةَۢ بِمَا ظَلَمُوٓاْۗ إِنَّ فِى ذَٲلِكَ لَأَيَةً لِّقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ٥٢
وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے، اس میں ایک نشانِ عِبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔
وَأَنجَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَ ٥٣
اور بچا لیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے
وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِۦٓ أَتَأْتُونَ ٱلْفَـٰحِشَةَ وَأَنتُمْ تُبْصِرُونَ ٥٤
اور لوطؑ کو ہم نے بھیجا۔ یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا”کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟
أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ ٱلرِّجَالَ شَهْوَةً مِّن دُونِ ٱلنِّسَآءِۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ ٥٥
کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔“
۞ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِۦٓ إِلَّآ أَن قَالُوٓاْ أَخْرِجُوٓاْ ءَالَ لُوطٍ مِّن قَرْيَتِكُمْۖ إِنَّهُمْ أُنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ ٥٦
مگر اُس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا "نکال دو لوطؑ کے گھر والوں کو اپنی بستی سے، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں"
فَأَنجَيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥٓ إِلَّا ٱمْرَأَتَهُۥ قَدَّرْنَـٰهَا مِنَ ٱلْغَـٰبِرِينَ ٥٧
آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو ، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا،
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًاۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ٥٨
اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات، بہت ہی بری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کیے جا چکے تھے
قُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ وَسَلَـٰمٌ عَلَىٰ عِبَادِهِ ٱلَّذِينَ ٱصْطَفَىٰٓۗ ءَآللَّهُ خَيْرٌ أَمَّا يُشْرِكُونَ ٥٩
(اے نبیؐ)کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔(اِن سے پُوچھو)اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟
أَمَّنْ خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَّا كَانَ لَكُمْ أَن تُنۢبِتُواْ شَجَرَهَآۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ ٦٠
بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک)ہے؟ (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں
أَمَّن جَعَلَ ٱلْأَرْضَ قَرَارًا وَجَعَلَ خِلَـٰلَهَآ أَنْهَـٰرًا وَجَعَلَ لَهَا رَوَٲسِىَ وَجَعَلَ بَيْنَ ٱلْبَحْرَيْنِ حَاجِزًاۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِۚ بَلْ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ٦١
اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی)میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں شریک)ہے؟ نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں
أَمَّن يُجِيبُ ٱلْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ ٱلسُّوٓءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ ٱلْأَرْضِۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِۚ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ ٦٢
کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا)ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو
أَمَّن يَهْدِيكُمْ فِى ظُلُمَـٰتِ ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ وَمَن يُرْسِلُ ٱلرِّيَـٰحَ بُشْرَۢا بَيْنَ يَدَىْ رَحْمَتِهِۦٓۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِۚ تَعَـٰلَى ٱللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ ٦٣
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا)ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں
أَمَّن يَبْدَؤُاْ ٱلْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُۥ وَمَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِۗ أَءِلَـٰهٌ مَّعَ ٱللَّهِۚ قُلْ هَاتُواْ بُرْهَـٰنَكُمْ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٦٤
اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟ اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں حصہ دار)ہے؟ کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔
قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلْأَرْضِ ٱلْغَيْبَ إِلَّا ٱللَّهُۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ٦٥
اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا۔ اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔
بَلِ ٱدَّٲرَكَ عِلْمُهُمْ فِى ٱلْأَخِرَةِۚ بَلْ هُمْ فِى شَكٍّ مِّنْهَاۖ بَلْ هُم مِّنْهَا عَمُونَ ٦٦
بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔
وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓاْ أَءِذَا كُنَّا تُرَٲبًا وَءَابَآؤُنَآ أَئِنَّا لَمُخْرَجُونَ ٦٧
یہ منکرین کہتے ہیں "کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو چکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟
لَقَدْ وُعِدْنَا هَـٰذَا نَحْنُ وَءَابَآؤُنَا مِن قَبْلُ إِنْ هَـٰذَآ إِلَّآ أَسَـٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ ٦٨
یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آ رہے ہیں"
قُلْ سِيرُواْ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱنظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلْمُجْرِمِينَ ٦٩
کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے۔
وَلَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ وَلَا تَكُن فِى ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُونَ ٧٠
اے نبیؐ ، اِن کےحال پر رنج نہ کرو، اور نہ اِن کی چالوں پر دِل تنگ ہو
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَـٰدِقِينَ ٧١
وہ کہتے ہیں کہ ”یہ دھمکی کب پُوری ہوگی اگر تم سچے ہو؟“
قُلْ عَسَىٰٓ أَن يَكُونَ رَدِفَ لَكُم بَعْضُ ٱلَّذِى تَسْتَعْجِلُونَ ٧٢
کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔
وَإِنَّ رَبَّكَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى ٱلنَّاسِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَشْكُرُونَ ٧٣
حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
وَإِنَّ رَبَّكَ لَيَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُورُهُمْ وَمَا يُعْلِنُونَ ٧٤
بلا شُبہ تیرا ربّ خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھُپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔
وَمَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِى ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ إِلَّا فِى كِتَـٰبٍ مُّبِينٍ ٧٥
آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔
إِنَّ هَـٰذَا ٱلْقُرْءَانَ يَقُصُّ عَلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٲٓءِيلَ أَكْثَرَ ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ٧٦
یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثراُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں
وَإِنَّهُۥ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ٧٧
اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔
إِنَّ رَبَّكَ يَقْضِى بَيْنَهُم بِحُكْمِهِۦۚ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْعَلِيمُ ٧٨
یقیناً (اِسی طرح)تیرا ربّ اِن لوگوں کے درمیان بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِۖ إِنَّكَ عَلَى ٱلْحَقِّ ٱلْمُبِينِ ٧٩
پس اے نبیؐ، اللہ پر بھروسا رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو
إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ ٱلْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ ٱلصُّمَّ ٱلدُّعَآءَ إِذَا وَلَّوْاْ مُدْبِرِينَ ٨٠
تم مُردوں کو نہیں سُنا سکتے، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں
وَمَآ أَنتَ بِهَـٰدِى ٱلْعُمْىِ عَن ضَلَـٰلَتِهِمْۖ إِن تُسْمِعُ إِلَّا مَن يُؤْمِنُ بِـَٔـايَـٰتِنَا فَهُم مُّسْلِمُونَ ٨١
اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔ تم تو اپنی بات اُنہی لوگوں کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں
۞ وَإِذَا وَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ ٱلْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ ٱلنَّاسَ كَانُواْ بِـَٔـايَـٰتِنَا لَا يُوقِنُونَ ٨٢
اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آپہنچے گا تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کر تے تھے۔
وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِن كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّن يُكَذِّبُ بِـَٔـايَـٰتِنَا فَهُمْ يُوزَعُونَ ٨٣
اور ذرا تصور کرو اُس دن کا جب ہم ہر امّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ) مرتب کیا جائے گا
حَتَّىٰٓ إِذَا جَآءُو قَالَ أَكَذَّبْتُم بِـَٔـايَـٰتِى وَلَمْ تُحِيطُواْ بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٨٤
یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (ان کا ربّ ان سے)پوچھے گاکہ”تم نے میری آیات کو جھُٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا عِلمی احاطہ نہ کیا تھا؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟“
وَوَقَعَ ٱلْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُواْ فَهُمْ لَا يَنطِقُونَ ٨٥
اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے
أَلَمْ يَرَوْاْ أَنَّا جَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِيَسْكُنُواْ فِيهِ وَٱلنَّهَارَ مُبْصِرًاۚ إِنَّ فِى ذَٲلِكَ لَأَيَـٰتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ٨٦
کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟ اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔
وَيَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِى ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَمَن فِى ٱلْأَرْضِ إِلَّا مَن شَآءَ ٱللَّهُۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَٲخِرِينَ ٨٧
اور کیا گُزرے گی اُس روز جب کہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔۔۔۔ سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا۔۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے
وَتَرَى ٱلْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَهِىَ تَمُرُّ مَرَّ ٱلسَّحَابِۚ صُنْعَ ٱللَّهِ ٱلَّذِىٓ أَتْقَنَ كُلَّ شَىْءٍۚ إِنَّهُۥ خَبِيرُۢ بِمَا تَفْعَلُونَ ٨٨
آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرتت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔
مَن جَآءَ بِٱلْحَسَنَةِ فَلَهُۥ خَيْرٌ مِّنْهَا وَهُم مِّن فَزَعٍ يَوْمَئِذٍ ءَامِنُونَ ٨٩
جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔
وَمَن جَآءَ بِٱلسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِى ٱلنَّارِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ٩٠
اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟
إِنَّمَآ أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ رَبَّ هَـٰذِهِ ٱلْبَلْدَةِ ٱلَّذِى حَرَّمَهَا وَلَهُۥ كُلُّ شَىْءٍۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُسْلِمِينَ ٩١
(اے محمدؐ ، اِن سے کہو)”مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے ربّ کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں
وَأَنْ أَتْلُوَاْ ٱلْقُرْءَانَۖ فَمَنِ ٱهْتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهْتَدِى لِنَفْسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَآ أَنَا۟ مِنَ ٱلْمُنذِرِينَ ٩٢
اور یہ قرآن پڑھ کر سناؤں" اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبردار کر دینے والا ہوں
وَقُلِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ ءَايَـٰتِهِۦ فَتَعْرِفُونَهَاۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ٩٣
اِن سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لو گے، اور تیرا رب بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو